Islamic
"Welcome to our Islamic page. Here we share Islamic teachings, Hadith, Quranic verses, and reminders to help us all stay connected with our Deen.
Let's spread peace, love, and knowledge together.Join us on the path of Imaan and peace."
27/08/2026
قال رسول الله ﷺ :
كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَىٰ الِّلسان ،
ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ ،
حَبِيبَتَانِ إِلَىٰ الرّحْمٰنِ.
* *سبحان الله وبحمده*
* *سبحان الله العظيم .*
26/08/2026
تفسیر ابنِ کثیر
مولانا محمد جوناگڑہی
سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 225
ترجمہ:
خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہ کرے گا۔ لیکن جو قسمیں تم قصد دلی سے کھاؤ گے ان پر مواخذہ کرے گا۔ اور خدا بخشنے والا بردبار ہے
تفسیر:
پھر فرماتا ہے جو قسمیں تمہارے منہ سے بغیر قصداً اور ارادے کے عادتاً نکل جائیں ان پر پکڑ نہیں۔ مسلم بخاری کی حدیث میں ہے جو شخص لات اور عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے وہ آیت (لا الہ الا الله) پڑھ لے۔ یہ ارشاد حضور ﷺ کا ان لوگوں کو ہوا تھا جو ابھی ابھی اسلام لائے تھے اور جاہلیت کے زمانہ کی یہ قسمیں ان کی زبانوں پر چڑھی ہوئی تھیں تو ان سے فرمایا کہ اگر عادتاً کبھی ایسے شرکیہ الفاظ نکل جائیں تو فوراً کلمہ توحید پڑھ لیا کرو تاکہ بدلہ ہوجائے۔ پھر فرمایا ہاں جو قسمیں پختگی کے ساتھ دل کی ارادت کے ساتھ قصداً کھائی جائیں ان پر پکڑ ہے۔ دوسری آیت کے لفظ (لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ باللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ) 5۔ المائدہ :89) ہیں، ابو داؤد میں بروایت حضرت عائشہ ایک مرفوع حدیث مروی ہے جو اور روایتوں میں موقوف وارد ہوئی ہے کہ یہ لغو قسمیں وہ ہیں جو انسان اپنے گھر بار میں بال بچوں میں کہہ دیا کرتا ہے کہ ہاں الله کی قسم اور انہیں الله کی قسم، غرض بطور تکیہ کلام کے یہ لفظ نکل جاتے ہیں دل میں اس کی پختگی کا خیال بھی نہیں ہوتا، حضرت عائشہ سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ دو قسمیں ہیں جو ہنسی ہنسی میں انسان کے منہ سے نکل جاتی ہیں، ان پر کفارہ نہیں، ہاں جو ارادے کے ساتھ قسم ہو پھر اس کا خلاف کرے تو کفارہ ادا کرنا پڑے گا، آپ کے علاوہ اور بھی بعض صحابہ اور تابعین نے یہی تفسیر اس آیت کی بیان کی ہے، یہ بھی مروی ہے کہ ایک آدمی اپنی تحقیق پر بھروسہ کر کے کسی معاملہ کی نسبت قسم کھا بیٹھے اور حقیقت میں وہ معاملہ یوں نہ ہو تو یہ قسمیں لغو ہیں، یہ معنی بھی دیگر بہت سے حضرات سے مروی ہیں، ایک حسن حدیث میں ہے جو مرسل ہے کہ ایک مرتبہ رسول الله ﷺ تیر اندازوں کی ایک جماعت کے پاس جا کھڑے ہوئے، وہ تیر اندازی کر رہے تھے اور ایک شخص کبھی کہتا الله کی قسم اس کا تیر نشانے پر لگے گا، کبھی کہتا الله کی قسم یہ خطا کرے گا، آپ ﷺ کے صحابی نے کہا دیکھئے حضور ﷺ اگر اس کی قسم کے خلاف ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ دو قسمیں لغو ہیں ان پر کفارہ نہیں اور نہ کوئی سزا یا عذاب ہے، بعض بزرگوں نے فرمایا ہے یہ وہ قسمیں ہیں جو انسان کھا لیتا ہے پھر خیال نہیں رہتا، یا کوئی شخص اپنے کسی کام کے نہ کرنے پر کوئی بد دعا کے کلمات اپنی زبان سے نکال دیتا ہے، وہ بھی لغو میں داخل ہیں یا غصے اور غضب کی حالت میں بےساختہ زبان سے قسم نکل جائے یا حلال کو حرام یا حرام کو حلال کرلے تو اسے چاہئے کہ ان قسموں کی پروا نہ کرے اور الله کے احکام کیخلاف نہ کرے، حضرت سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ انصار کے دو شخص جو آپس میں بھائی بھائی تھے ان کے درمیان کچھ میراث کا مال تھا تو ایک نے دوسرے سے کہا اب اس مال کو تقسیم کردو، دوسرے نے کہا اگر اب تو نے تقسیم کرنے کیلئے کہا تو میرا مال کعبہ کا خزانہ ہے۔ حضرت عمر نے یہ واقع سن کر فرمایا کہ کعبہ ایسے مال سے غنی ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے بھائی سے بول چال رکھ، میں نے رسول الله ﷺ سے سنا ہے کہ الله تعالیٰ کی نافرمانی رشتے ناتوں کے توڑنے اور جس چیز کی ملکیت نہ ہو ان کے بارے میں قسم اور نذر نہیں۔ پھر فرماتا ہے تمہارے دل جو کریں اس پر گرفت ہے یعنی اپنے جھوٹ کا علم ہو اور پھر قسم کھائے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ) 5۔ المائدہ :89) یعنی جو تم مضبوط اور تاکید والی قسمیں کھالو۔ الله تعالیٰ اپنے بندوں کو بخشنے والا ہے اور ان پر علم و کرم کرنے والا ہے۔
26/08/2026
بعثتِ رسول ﷺ کا مقصد
=======================================
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت کی دعا کرتے ہوئے یہی مقاصد بیان فرمائے:
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
سورۃ البقرۃ، آیت 129
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ترجمہ:
اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیج جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے، انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاکیزہ کرے۔ بے شک تو ہی زبردست، حکمت والا ہے۔
سورۃ البقرۃ، آیت 129
26/08/2026
مزید قرآن و حدیث اور اسلامی پوسٹس کے لئے مجھے فالو کریں پلیز
26/08/2026
📖 *"اَلَا تَتَّقُوْنَ" — کیا تم ڈرتے نہیں؟*
❓ اللہ کا ڈر یا تقوی دراصل
اس کے ہر حکم کو ماننا اور ہر منع کی ہوئی بات سے رک جانا ہے ۔
اس کا تعلق
📌 دل (سوچ)،
📌 زبان (قول)
📌 عمل (کردار)
تینوں سے ہے۔
1 *. سوچ کا تقویٰ :*
دل کو شرک، ریاکاری، حسد اور کینہ سے پاک رکھنا۔
💡 مثال: حضرت لوطؑ نے اپنی قوم کو باطنی گندگی اور برے رجحانات سے روکا، مگر وہ اپنی ضد پر قائم رہے۔
2 *. زبان کا تقویٰ :*
جھوٹ، غیبت اور بدزبانی سے بچنا۔
💡 مثال: انبیاء ہمیشہ سچے اور امانت دار تھے، رازوں کی حفاظت کرتے اور حق بات کہنے میں نہیں جھجکتے۔
3 *. عمل میں تقویٰ:*
سود، رشوت، شراب، زنا اور ہر حرام سے اجتناب۔
💡 مثال: حضرت لوطؑ نے اپنی قوم کو ہم جنس پرستی جیسی سنگین برائی سے باز رکھنے کے لیے واضح اور جرات مندانہ انداز اختیار کیا۔
🔹 *مکمل تقویٰ :*
▫️ صرف یہ کہنا کہ "دل صاف ہے" کافی نہیں، ظاہر بھی پاکیزہ ہونا
▫️ اللہ کا ڈر لوگوں کے ڈر پر غالب ہو
▫️ امانت داری کو زندگی کا حصہ بنانا
💡 مثال: انبیاء نے اپنی دعوت پر نہ کبھی دنیاوی اجر مانگا، نہ لوگوں کے خوف سے دعوت دینا چھوڑی
🔹 *تقویٰ کے فوائد :*
💫 اللہ کی رضا اور مدد کا حصول
💫 ایمان اور عمل کی مضبوطی
💫 دل و دماغ کی پاکیزگی
💫 معاشرتی اعتماد اور عزت
💫 حرام تعلقات اور برے کاموں سے نجات
🎙️ *استاذہ محترمہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ*
26/08/2026
🌿 *آج کی سنتِ رسول ﷺ —کی دل جوئی اور محبت*
✨ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے حضرت زاہرؓ کو پیچھے سے محبت سے پکڑ لیا اور مزاحاً فرمایا:
*"کون ہے جو اس غلام کو خریدے؟"*
حضرت زاہرؓ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ ﷺ! پھر تو آپ مجھے بے قیمت پائیں گے۔"
تو نبی کریم ﷺ نے فوراً ان کی دل جوئی فرمائی:
"لیکن اللہ کے ہاں تم بے قیمت نہیں، بلکہ بہت قیمتی ہو۔" 🌹🌹
📚 مسند احمد: 12648، صحیح ابن حبان: 5790 — روایت کو صحیح قرار دیا گیا ہے۔
✨ *سنت صرف نماز، روزہ اور عبادت کا نام نہیں؛ لوگوں کے دل خوش کرنا،* محبت دینا، مزاح کرنا اور کسی کو اس کی قدر و قیمت کا احساس دلانا بھی نبی ﷺ کے خوبصورت اخلاق میں شامل ہے۔
🌼کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئیں…
ممکن ہے آپ کا ایک جملہ کسی کے دل کا بوجھ ہلکا کر دے۔
👈💐*آج کسی ایک عام انسان کو احساس دلائیں کہ وہ آپ کے لیے قیمتی ہے۔*
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Peshawar
GPA