من مرضی سجن دی -گجرات
سادگی والے لوگ
17/01/2026
ڈاکٹر امجد کا جنازہ تھا‘ ڈاکٹر امجد
ایڈن ہاؤسنگ سکیم کا مالک تھا‘
اس کے والد ڈپٹی کمشنر رہے تھے
اور یہ آئی جی پنجاب سردار محمد چودھری کا داماد تھا‘
اللہ تعالیٰ نے اس پر دولت کی بارش کی اور یہ اس بارش میں بھیگتا بھیگتا کیچڑ میں جا گرا‘
اس نے سب سے پہلے ایڈن ہاؤسنگ سکیم کے 13 ہزار ممبرز کے دس ارب روپے ہڑپ کیے
اور پھر اس نے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں نذر گوندل کے بھائی ظفر گوندل کے ساتھ مل کر
ای او بی آئی کی رقم بھی اڑالی‘
ڈاکٹر امجد نے فرضی پلاٹ دے کر ظفر گوندل سے دو ارب روپے لیے تھے
اور یہ دونوں بعدازاں یہ رقم آدھی آدھی کر کے نگل گئے‘ متاثرین نے احتجاج شروع کیا‘
افتخار محمد چودھری چیف جسٹس تھے‘ سو او موٹو ہوا‘ عدالت میں پیشیاں شروع ہوئیں‘ لاہور کے ایک وکیل کےذریعے چیف جسٹس اور ملزم کے درمیان رابطہ ہوا اور یہ رابطہ بہت جلد رشتے داری میں بدل گیا‘
ڈاکٹر امجد کے صاحبزادے مرتضیٰ امجد اور افتخار محمد چودھری کی صاحبزادی افرا افتخارکی شادی ہو گئی
اور یوں ایڈن ہاؤسنگ سکیم اور
ای او بی آئی کے کیسز کھوہ کھاتے چلے گئے
‘ دور بدلا‘ نیب کے مقدمے شروع ہوئے تو پورا خاندان ملک سے بھاگ گیا‘
نیب نے ریڈ وارنٹ جاری کر دیے‘ ایف آئی اے نے 26 ستمبر 2018ء کو مرتضیٰ امجد کو دوبئی سے گرفتار کر لیا‘
افتخار محمد چودھری نےکوشش کی لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے ریڈ وارنٹ کو غیرقانونی قرار دے دیا
اور یہ لوگ خاندان سمیت کینیڈا شفٹ ہو گئے‘
کیسز چلتے رہے اور افتخار محمد چودھری کا اثرورسوخ ڈاکٹر امجد کو بچاتا رہا‘
فراڈ کی رقم 25 ارب روپے تک پہنچ گئی‘
یہ اس دوران پلی بارگین کے لیے بھی راضی ہو گیا لیکن یہ تین ارب روپے دے کر 25 ارب روپے معاف کرانا چاہتا تھا‘ نیب نہیں مانا‘
یہ اس دوران کسی پراسرار بیماری کا شکار ہو گیا‘ پاکستان آیا‘ علاج شروع ہوا لیکن طبیعت بگڑتی رہی یہاں تک کہ دنیا بھر کے ڈاکٹرز‘ ادویات اور افتخار محمد چودھری کا اثرورسوخ بھی کام نہ آیا
اور ڈاکٹر امجد 23 اگست 2021ء کو لاہور میں انتقال کر گیا‘
لواحقین نے اسے خاموشی کے ساتھ دفن کرنے کی کوشش کی لیکن
متاثرین کو خبر ہو گئی اور یہ
پلے کارڈز اور پوسٹرز لے کر پہلے اس کے گھر اور پھر جنازے پر پہنچ گئے
اور ’’ہماری رقم واپس کرو‘‘ کے نعرے لگانے لگے‘ پولیس بلائی گئی‘پولیس جنازے اور احتجاجیوں کے درمیان کھڑی ہو گئی‘
پولیس کی مدد سے جنازہ اٹھایا گیا اور پولیس ہی کی نگرانی میں ڈاکٹر امجد کو دفن کیا گیا‘
اب متاثرین اس کی قبر پر بھی آ جاتے ہیں جس کی وجہ سے خاندان نے وہاں گارڈز کھڑے کر دیے ہیں
۔یہ انتہا درجے کا عبرت ناک واقعہ ہے لیکن آپ اس سے بھی بڑی عبرت ملاحظہ کیجئے
‘ ڈاکٹر امجد نے جس خاندان اور جن بچوں کے لیے 25 ارب روپے کا فراڈ کیا تھا‘
وہ جنازے کے وقت کینیڈا میں بیٹھے تھے اور ان میں سے کوئی شخص اسے مٹی کے حوالے کرنے کے لیے پاکستان نہیں آیا تھا
۔یہ واقعہ دولت کے پیچھے باؤلے ہونے والے بے وقوفوں کے لیے
نشان عبرت ہے
‘ یہ ثابت کرتا ہے انسان جب ہوس کے کیچڑ میں گرتا ہے تو یہ پھر انسان نہیں رہتا‘
یہ بدبودار کیچڑ بن جاتا ہے‘ آپ نے کبھی غور کیا دولت آخر ہے کیا؟
یہ صرف کاغذ کے ٹکڑے ہیں اور یہ کاغذ کے ٹکڑے جل بھی سکتے ہیں‘ گل بھی سکتے ہیں‘ پھٹ بھی سکتے ہیں
اور کینسل بھی ہو سکتے ہیں
یا پھر دولت بینکوں کی سٹیٹمنٹ پر چھپی ہوئی چند فگرز اوران کے آخر میں بے شمار صفر ہیں اور یہ صفر اور یہ بینک بھی کسی بھی وقت ختم ہو سکتے ہیں یا
پھر دولت اللہ کی زمین کے چند ٹکڑے ہیں اور ان ٹکڑوں کا اصل مالک کون ہے؟
ہمارا رب اور یہ رب جب چاہے اپنی لیز جس کے نام چاہے شفٹ کر دے اور بس‘سوال یہ ہے ہم پھر پرائے مال کے لیے کیوں باؤلے ہوجاتے ہیں‘
ہم زمینی ٹکڑوں‘ بینکوں کے زیروز اور کاغذ کے نوٹوں کے لیے بددعاؤں کی فصل کیوں بوتے ہیں؟
ہم لوگوں کی آہیں‘ بددعائیں اور لعنتیں کیوں اکٹھی کرتے ہیں اور کس کے لیے کرتے ہیں؟
ان کے لیے جو ہماری آنکھیں بند ہوتے ہی ہمارے مال کے لیے ایک دوسرے کا گلا کاٹنے لگتے ہیں یا ہم سے ہزاروں میل دور بیٹھ کر ابا مرحوم‘ ابا مرحوم کہتے رہتے ہیں اور ہمیں دفن پرائے لوگ کرتے ہیں‘
میں اکثر اپنے دوستوں سے عرض کرتا ہوں آپ کی عمر اگر 50 سال ہو چکی ہے تو آپ پلیز پلیز اپنی چارج شیٹ سے گناہ‘ حرص اور فراڈ کو خارج کر دیں‘
آپ نے جس سے معافی مانگنی ہے مانگ لیں‘ جس کو جو دینا ہے دے دیں اور جتنی توبہ کرنی ہے کر لیں‘ آپ کے پاس زیادہ مہلت نہیں ہے‘ زندگی کی رسی کسی بھی وقت کھینچ لی جائے گی اور آپ یہ حقیقت جتنی جلدی سمجھ جائیں گے آپ کے لیے اتنا ہی اچھا ہو گا اور
آپ یہ بھی جان لیں چیونٹیوں کا اکٹھا کیا ہوا رزق ہمیشہ چوہے کھاتے ہیں لہٰذا خدا کے لیے چیونٹیوں کی زندگی نہ گزاریں‘ اپنے قد سے بڑے دانے نہ کھینچیں اور اپنی ضرورت سے زیادہ جمع نہ کریں‘
آپ کی حرص آپ کو جینے نہیں دے گی اور آپ کا جمع کیا ہوا
پلے کارڈ بن کر آپ کے جنازے کے آگے آگے چلتا رہے گاجب کہ آپ کی ہوس کے بینی فشری پانچ دس ہزار کلو میٹر دور بیٹھ کر اپنے دوستوں کو ’’مائی ڈیڈ پاسڈ اوے‘‘ کے میسج کرتے رہیں گے اور ان کے دوست ’’او ہو‘‘ کا جواب دے کر پارٹی میں مصروف ہو جائیں گے چناں چہ رک جائیں‘ آگے کھائی ہے اور اس کھائی میں ڈاکٹر امجد جیسے ہزاروں لوگ گرے پڑے ہیں۔
جاوید چوہدری کے کالم
چیونٹیوں کا رزق چوہے کھاتے ہیں۔۔۔
PunjabianZ
16/01/2026
میں نے یونیورسٹی سے ڈگری کی۔
پھر پیسے جمع کر کے ڈگری لی اور ڈگری پر کنٹرولر اور وائس چانسلر نے دستخط بھی کیے۔
اس کے بعد میں نے دوبارہ پیسے جمع کر کے ڈگری ان کو واپس بھیجی کہ اب یہ ویریفائی کر لو کہ آپ لوگوں نے مجھے جو ڈگری دی ہے وہ فیک تو نہیں ہے۔
بات یہاں پہ ختم نہیں ہوئی۔ اس کے بعد وہی ڈگری HEC کو بھیجی کہ آپ کے ساتھ جو یونیورسٹی Affiliated ہے اس نے یہ ڈگری جاری کی ہے اور ویریفائی بھی کی ہے۔ اب آپ بھی ویریفائی کر لے کہ کہی یہ ڈگری جعلی تو نہیں۔
آگے کی بات سنیے۔ پھر HEC کے بعد میں نے وہ ڈگری MOFA کو بھیجی اور ان سے کہا کہ یہ جو HEC نے سٹیمپ لگایا ہے اس کو چیک کرے کہ کہی یہ فیک تو نہیں ہے۔
اس پورے کام میں آپ کے ہزاروں روپے الگ سے ضائع ہو جاتے ہیں، ساتھ میں وقت بھی ضائع ہوتا ہے اور سب سے اہم بات وہ نمونے جو خود میٹرک فیل ہوتے ہیں ان کی باتیں بھی سننے کو ملتی ہے۔
کیا یہ کھلا تضاد نہی
14/01/2026
بیٹی کو نچوا کر پیسہ کمایا
پھر بیوی کو دیکھا کر پیسہ کمایا
اور اب
ماں کی قبر کو زریعہ بناکر
پیسہ کمایا جارہا ہے
آہ پاکستانی یوسف
عزت بیچ کر پیسہ کمایا جارہا ہے
تاکہ عزت بنائی جاسکے
اگر پاکستانی یوسف کو
ماں سے محبت ہوتی تو وہ نیک عمل کرتا
تاکہ ماں کو اس کا ثواب ملتا
یہ ثواب ماں کی قبر کو روشن کرتا
ماں کی روح کو سکون ملتا
ماں کو دنیا میں
اپنے بیٹے کے ہونے کا فائدہ ہوتا
لیکن یوسف نے ماں کے فائدے
کی بجائے اپنے فائدے کو
ترجیح دی اور پیسے کے لئے
گھر میں ہی بے حیائی کی
ایک نئی دنیا بنا ڈالی
اللہ ان سب کو اور ہمیں ہدایت دے آمین
!!
14/01/2026
وزیر تعلیم کی شبانہ روز محنت 👇
گرمیوں کی چھٹیاں 94
سردیوں کی چھٹیاں 30
تہوار کی چھٹیاں 20
ہفتے کی چھٹیاں 48
اتوار کی چھٹیاں 48
ٹوٹل چھٹیاں 240
ویلڈن Rana Sikandar Hayat صاحب
کم 365 دے نیڑے پہنچ گیا جے
اسمیں ایمرجنسی بارشیں سیلاب وغیرہ کی چھٹیاں شامل نہیں 🙏👇
پرائیویٹ سکولوں میں بھی لوٹ مار جاری 👇
نہ پڑھے گآ جوان نہ بڑھے گا پاکستان 🙏
14/01/2026
مان گئے :غلط کاموں میں دماغ چلانے میں پاکستانیوں کا کوئی جواب نہیں ۔۔۔۔ لاہور کی تاریخ کا انوکھا موٹرسائیکل چور گیینگ گرفتار ۔۔۔۔ لنگڑا ، گونگا اور اندھا بن کر تین نوجوان کیسے حیران کن اور کامیاب وارداتیں کرتے رہے ؟ سمن آباد پولیس نے کیسے گرفتار کیا ۔۔۔۔۔۔ چند روز قبل لاہور سمن آباد پولیس نے تین ایسے موٹرسائیکل چوروں کو گرفتار کیا ہے جن میں سے ایک لنگڑا دوسرا گونگا اور تیسرا اندھا تھا ۔۔۔ ان کا طریقہ واردات خاصا حیران کن اور دلچسپ تھا ۔۔۔ پہلے ایک ٹانگ سے محروم لنگڑا ملزم بیساکھیوں پر چلتا ہوا کسی موٹر سائیکل کے قریب کھڑا ہو جاتا اور ماسٹر چابی لگا کر اسکا ہینڈل لاک کھول دیتا ، پھر یہ وہاں سے چلا جاتا ۔۔۔۔ اسکے بعد گونگا وارداتیا آتا اور یہ ارد گرد کا جائزہ لے کر موٹرسائیکل کو سٹارٹ کردیتا ، اسکے بعد یہ بھی وہاں سے کھسک جاتا ، اس دوران تیسرا ایک آنکھ سے اندھا نوجوان قریب ہی موجود ہوتا وہ آتا اور سٹارٹ موٹرسائیکل پر بیٹھ کر اسے وہاں سے نکالتا ۔۔۔ یہ آہستہ آہستہ بائیک چلاتا اپنے دو ساتھیوں کے قریب پہنچ جاتا جو اس دوران ایک موٹرسائیکل پر سوار اسکے آگے جارہے ہوتے ۔۔۔ایک آنکھ سے اندھا ہونے کی وجہ سے یہ ہمیشہ چوری شدہ موٹرسائیکل انکے پیچھے لگا کر اس ایریا سے اپنے ٹھکانے تک لے جاتا ۔۔۔۔۔ سمن آباد پولیس نے سب سے زیادہ بائیک چوری والے مقامات کا باریک بینی سے جایزہ لیا مارکیٹوں اور دیگر مقامات کے کیمروں پر نظر رکھی گئی آخر یہ تینوں یعنی لنگڑا گونگا اور اندھا کئی مقامات پر ایک ساتھ نظر آئے ، آخر ایک روز یہ تینوں ایک مشترکہ واردات میں اس وقت گرفتار کر لیے گئے جب لنگڑا اور گونگا گیم ڈال چکے تھے جبکہ تیسرا یعنی ایک آنکھ سے اندھا سٹارٹ موٹرسائیکل پر سوار ہورہا تھا ۔۔۔۔ دوران تفتیش ملزمان نے دلچسپ انکشاف کیا کہ کئی بار ٹریفک وارڈنز اور پولیس نے انہیں روکا مگر چوری شدہ موٹرسائیکل والا ایک آنکھ سے اندھا وارداتیا فوری بہانا لگاتا جناب مجھے شوگر ہے ، ایک آنکھ بھی ختم ہو چکی ہے دوائی لینے جارہا ہوں میں کاغذات کہاں ڈھونڈتا پھروں اور پولیس والے ترس کھا کر اسے جانے دیتے ۔۔۔۔ ریکارڈ سے پتہ چلا کہ لنگڑا گونگا اور اندھا یہ گیینگ لگ بھگ 160 وارداتیں ڈال چکا تھا جبکہ پولیس ریکارڈ میں یہ تینوں مجموعی طور پر درجنوں وارداتوں میں مطلوب بھی تھے ۔۔۔۔۔
02/01/2026
یہ پاکستان کا قومی شناختی کارڈ ہے ،جس میں ڈیجٹیل بارکوڈ کے ساتھ چپ بھی ہے لیکن قوم کے ساتھ مذاق دیکھیں اسکے باوجود ہر سرکاری دفتر میں اسکی فوٹو کاپی مانگی جاتی ہے ،،حالانکہ اس سے تصدیق کی جاسکتی ہے اور مزے کی بات اس فوٹو کاپی کو سترہ گریڈ کے افسر سے تصدیق بھی کروایا جاتا ہے
ہے نا قوم کے ساتھ مذاق 😄😁😆🤩
نظام بدلنے تک یہ درد بھی سہنا ہے
مزدور کے بچے کو مزدور ہی رہنا ہے
24/12/2025
24/12/2025
اللہ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے آمین
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Lahore