Abdul Qayyum Bhutta official

Abdul Qayyum Bhutta official

Share

Islamic

28/08/2026
27/08/2026

مبارک ہو پاکستانیوحکومت نے50 پیسے پیٹرول سستا کردیا وہ بھی صرف ایک دن کےلئے

27/08/2026

جامعہ مسجد مولانا احمد علی لاہوری شان مصطفیٰ 12 ربیع الاول

27/08/2026

یہ مندر راولپنڈی کے قدیم ہندو ورثے کی ایک اہم یادگار ہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد یہاں کی ہندو آبادی کے بڑی تعداد میں نقل مکانی کرنے کے بعد مندر اپنی مذہبی حیثیت کھو بیٹھا۔ بعد میں اس احاطے میں بصارت سے محروم بچوں کے لیے سرکاری اسکول قائم کیا گیا۔ �
Dawn +1
Writing
کلیان داس مندر، راولپنڈی — تاریخ کا خاموش ورثہ
[اوپننگ شاٹ]
راولپنڈی کے قدیم کوہاٹی بازار کی گلیوں میں ایک ایسی تاریخی عمارت آج بھی موجود ہے، جو اپنے اندر ایک صدی سے زیادہ پرانی داستان سموئے ہوئے ہے۔
یہ ہے کلیان داس مندر، جسے مقامی طور پر ’’دیوی کا مندر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
[مندر کے بلند شکھروں کے شاٹس]
اس تاریخی مندر کی بنیاد 1850ء کی دہائی میں راولپنڈی کے ایک مالدار ہندو باشندے کلیان داس سوری نے رکھی۔ تقریباً تین دہائیوں کی تعمیر کے بعد یہ عظیم الشان عمارت 1880ء کے آس پاس مکمل ہوئی۔
مندر کی تعمیر میں روایتی ہندو طرزِ تعمیر کے ساتھ مغلیہ دور کے آرکیٹیکچرل اثرات بھی دکھائی دیتے ہیں۔ بلند شکھر، محرابیں، نقش و نگار اور دیواروں پر بنے قدیم آرائشی کام اس عمارت کو منفرد بناتے ہیں۔
[اندرونی حصے اور پرانی دیواروں کے شاٹس]
کبھی اس مندر کا وسیع احاطہ زائرین، عبادت گزاروں اور مسافروں سے آباد رہتا تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق یہاں ایک بڑا تالاب اور مسافروں کے قیام کے لیے متعدد کمرے بھی موجود تھے۔ کشمیر کی طرف جانے والے بعض ہندو یاتری بھی یہاں قیام کرتے تھے۔
[1947ء کی تقسیم کا تاثر]
پھر برصغیر کی تاریخ نے ایک بڑا موڑ لیا۔
1947ء کی تقسیم کے بعد راولپنڈی کی ہندو آبادی کی بڑی تعداد یہاں سے نقل مکانی کر گئی اور مندر بھی اپنی سابقہ مذہبی سرگرمیوں سے محروم ہوگیا۔
وقت گزرتا گیا، شہر بدلتا گیا، مگر یہ عمارت اپنے بلند شکھروں کے ساتھ ماضی کی گواہی دیتی رہی۔
[موجودہ حالت کے شاٹس]
آج مندر کا احاطہ سرکاری بصارت سے محروم بچوں کے اسکول کے ساتھ منسلک ہے۔ کئی دہائیوں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث عمارت کے کچھ حصے خستہ حالی کا شکار ہیں، جبکہ اس کے قدیم نقش و نگار اور شکھر اب بھی اس کے شاندار ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔
[اختتامی شاٹ — مندر کے شکھروں پر کیمرہ آہستہ آہستہ اوپر جائے]
کلیان داس مندر صرف ایک مذہبی عمارت نہیں، بلکہ راولپنڈی کے اس دور کی یادگار ہے جب مختلف مذاہب اور برادریاں اس شہر کی تہذیبی زندگی کا حصہ تھیں۔
یہ خاموش عمارت آج بھی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تاریخ صرف کتابوں میں نہیں ہوتی، بلکہ پرانی عمارتوں، گلیوں اور اینٹوں میں بھی زندہ رہتی ہے۔
کلیان داس مندر—
راولپنڈی کے ماضی کی ایک خاموش، مگر انتہائی خوبصورت نشانی۔

26/08/2026

لوگوں میں رائج غلط مسائل

Photos from Abdul Qayyum Bhutta official 's post 26/08/2026
25/08/2026

ٹیکسلا کے کھنڈرات — پاکستان کا عظیم تاریخی ورثہ
ٹیکسلا کے کھنڈرات پاکستان کے قدیم ترین تاریخی مقامات میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ شہر ہزاروں سال پہلے علم، تجارت، ثقافت اور بدھ مت کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہاں دنیا کے مختلف علاقوں سے طلبہ، علماء اور تاجر آتے تھے، جس نے ٹیکسلا کو قدیم تہذیبوں کا سنگم بنا دیا۔ Taxila

اہم حقائق:

🏛️ ٹیکسلا قدیم سلطنتِ گندھارا کا اہم شہر تھا۔

📚 یہ قدیم دور میں علم و تعلیم کا مشہور مرکز سمجھا جاتا تھا۔

🛕 یہاں بدھ خانقاہیں، اسٹوپے، مندروں اور قدیم شہروں کے آثار آج بھی موجود ہیں۔

🌍 1980ء میں اسے UNESCO نے عالمی ثقافتی ورثہ (World Heritage Site) قرار دیا۔

دلچسپ بات:
ٹیکسلا کی اہمیت اس کی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے بھی تھی، کیونکہ یہ قدیم تجارتی راستوں کے سنگم پر واقع تھا۔ اسی وجہ سے یہاں فارسی، یونانی، وسطی ایشیائی اور مقامی تہذیبوں کے اثرات ایک ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Sanawan
Lahore
32303-8979711-5